Bait Bazi

بات کرتے ہو تو کرتے ہی چلے جاتے ہو
تم مراسم کو بڑھانے کا طریقہ سیکھو
جوش سے ہاتھ ملاتے ہو، گلے لگتے ہو
پہلے اِس شہر میں رہنے کا سلیقہ سیکھو
 
موجِ کوثر کی قسم ہم تھے محبت کے ولی
!خاک کے ڈھیر پہ نہ گرتے تو قلندر ہوتے​
 
اُس نے اِک خاص تناسُب سے محبت بانٹی
مِیرے حصے میں ہَمیشہ ہی دِلاسے آئے​
 
یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہم نے آج تک
جس کو بھی دلفریب کہا، وہی فریب تھا​
 
ایک وحشت ہے کہ ہوتی ہے اچانک طاری
ایک غم ہے کہ یکایک ہی اُبل پڑتا ہے​
 
اِنکار نہ اِقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چُپ ہیں​
 
وہ جو اِک بار کہے مُجھ سے محبّت ہے اُسے
زندگی تجھ سے کوئی اور تقاضا نہ کروں​
 
وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں
جو لگا کے آگ گئے تھے تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں
 
سانس لیتا ہوں تو شہ رگ میں چبھن ہوتی ہے
عشق بھی جنگ کا میدان ہوا ہو جیسے
تھام کر ہاتھ میرا ایسے وہ رویا محسن
کوئی کافر سے مسلمان ہوا ہو جیسے
 
اِس نئے لہجے سے دل ڈوبنےلگتا ہے مِرا
تُم پُکارو مجھے آواز پرُانی دے کر​
 
پھر دل کو ہوگئ ہے وہی راہ گزر عزیز
پھر آگئے فریب میں ہم مدتوں کے بعد​
 
مجھ سے منسوب رہو ترک تعلق نہ کرو
کیا خبر وقت کبھی مجھ پہ بھی اچھا ائے​
 
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
!تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا​
 
تیری دہلیز پہ اقرار کی امید لیے
پھر کھڑے ہیں ترے انکار کے مارے ہوئے لوگ​
 
ماتم سرا بھی ہوتے ہیں کیا خود غرض قتیل
اپنے دکھوں پہ روتے ہیں لے کر کسی کا نام​
 
ہم احتیاط پسند، اختتام سے پہلے
کہانی سے خود کو نکال دیتے ہیں​
 
روبرو عشق ہو ، اور عشق بھی تیرے جیسا
پھر کوئی دل کے خسارے کو کہاں دیکھے گا​
 
Back
Top