Bait Bazi

مانا کہ تیرے دل میں کوئی اور مکیں ہے
تو پھر بھی میرا دل ہے، عقیدہ ہے، یقیں ہے​
 
بتا رہی ہے مرے تن کی خستگی کہ مجھے
ترا خیال ضرورت سے کچھ زیادہ ہے

تمہیں بھی غم ہے مقدر کی رائیگانی کا؟
تمہارے پاس تو قسمت سے کچھ زیادہ ہے

میں جانتا تو نہیں تجھ سے کیا تعلق ہے
مگر یہ طے ہے محبت سے کچھ زیادہ ہے​
 
بہت مصروف ہو شاید یا مجھ کو بھول بیٹھے ہو
نہ یہ پوچھا کہاں پہ ہو نہ یہ جانا کہ کیسے ہو​
 
وہ مجھ سے جیت کر آگے کسی سے ہار گئی
اور اِس کا رنج مجھے مات کے علاوہ ہے​
 
ہم نگینے ہیں جو تاجوں میں جڑے رہتے ہیں
ترے جیسے یونہی پیروں میں پڑے رہتے ہیں

تم بھی اعجاز مسیحائی سے واقف نہ ہوۓ
ہم سے بیمار بھی کچھ ضد پہ اڑے رہتے ہیں​
 
جفا کی آگ تھم جائے ، فخر ٹوٹے کبھی محسن
چلے آنا میرے ہو کر ، میں ماضی پھر بھلا دوں گی
 
عبث ہیں وہ ریاضتیں ، جو یار کو نہ منا سکیں
وہ ڈھول ، تھاپ ، بانسری وہ ہر دھمال مسترد
 
Back
Top